Sunday, 19 February 2023

امن کی تعمیر اور ادراک کا انتظام: تنازعات اور مواصلات کے درمیان باہمی تعامل کو سمجھنا

 باقلم(حاجرہ ظفر)


امن کی تعمیر اور ادراک کا انتظام دو باہم جڑے ہوئے تصورات ہیں جو تنازعات کو کم کرنے اور استحکام کو فروغ دینے میں اہم
کردار ادا کرتے ہیں۔ پہلے سے مراد تنازعات کے بعد کے معاشروں میں امن، سلامتی اور ترقی کو فروغ دینے کے عمل سے
ہے، جب کہ مؤخر الذکر میں مواصلات اور معلومات کے ذریعے لوگوں کے رویوں اور رائے کو متاثر کرنا شامل ہے۔ یہ دونوں
مل کر تنازعات کے حل اور استحکام کی کارروائیوں کا سنگ بنیاد بناتے ہیں، کیونکہ یہ تنازعات کی ساختی اور ثقافتی دونوں
جہتوں کو حل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔امن کی تعمیر ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی عمل ہے جس کا مقصد تنازعات کی بنیادی
وجوہات کو حل کرنا، تشدد کی تکرار کو روکنا اور پائیدار امن کو فروغ دینا ہے۔ اس میں متعدد سرگرمیاں شامل ہیں جیسے
تخفیف اسلحہ، تخفیف کاری، اور سابق جنگجوؤں کا دوبارہ انضمام، سیکورٹی کے شعبے میں اصلاحات، انتخابی عمل، اور ایسے
اداروں کا قیام جو اچھی حکمرانی، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دیتے ہیں۔ قیام امن کا حتمی مقصد ایک مستحکم
اور محفوظ ماحول پیدا کرنا ہے جو معاشروں کو تنازعات سے بازیافت کرنے، اپنی معیشتوں کی تعمیر نو اور پائیدار امن کی بنیاد
رکھنے کے قابل بنائےدوسری طرف پرسیپشن مینجمنٹ سے مراد کسی خاص مسئلے، واقعہ یا شخص کے بارے میں لوگوں کے
تاثرات اور رویوں کو تشکیل دینے کے لیے معلومات کی جان بوجھ کر ہیرا پھیری کرنا ہے۔ یہ مختلف ذرائع سے حاصل کیا جا
سکتا ہے، بشمول میڈیا رپورٹنگ، تعلقات عامہ، اور اشتہارات۔ ادراک کا انتظام تنازعات کے حل میں ایک ضروری ذریعہ ہے،
کیونکہ یہ تناؤ کو کم کرنے، باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور متضاد فریقوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنے میں مدد کر سکتا
ہے۔امن سازی اور ادراک کے انتظام کے درمیان تعامل پیچیدہ اور کثیر جہتی ہے، کیونکہ قیام امن کی کوششوں کی کامیابی اکثر
اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ انہیں عوام تک کیسے سمجھا اور پہنچایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، تخفیف اسلحہ، تخفیف
کاری، اور دوبارہ انضمام کے پروگراموں کے نفاذ کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اگر عوام انہیں غیر منصفانہ سمجھتی ہے، یا
اگر ان سے ناراضگی اور عدم اعتماد کو فروغ دینے کے طریقے سے بات کی جاتی ہے۔ اسی طرح، گڈ گورننس، انسانی حقوق،
اور قانون کی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے اداروں کے قیام کو نقصان پہنچ سکتا ہے اگر عوام انھیں متعصب، غیر موثر یا
ناجائز سمجھے۔لہذا، ادراک کا انتظام امن کی تعمیر کا ایک لازمی جزو ہے، کیونکہ یہ تنازعات کی نفسیاتی اور ثقافتی جہتوں کو
حل کرنے اور متضاد فریقوں کے درمیان مفاہمت اور تعاون کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے۔ مؤثر ادراک کے انتظام کے لیے
ایک باریک بینی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف پیغامات کے مواد کا انتظام کرنا ہوتا
ہے، بلکہ وہ سیاق و سباق بھی شامل ہوتا ہے جس میں ان سے بات کی جاتی ہے، اور وہ چینلز جن کے ذریعے وہ پھیلاتے
ہیں۔مثال کے طور پر، تنازعات کے بعد کے معاشروں میں، میڈیا قیام امن کی کوششوں کے بارے میں عوامی تاثرات اور رویوں
کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ لہٰذا، اس بات کو یقینی بنانا ضروریہے کہ میڈیا رپورٹنگ متوازن، درست اور معروضی
ہے، اور یہ متضاد فریقوں کے درمیان مفاہمت اور افہام و تفہیم کو فروغ دیتی ہے۔ اسی طرح، تعلقات عامہ اور تشہیری مہمات کا
استعمال امن قائم کرنے کی کوششوں کی مثبت تصویروں کو فروغ دینے، اور عوام کو ان کے فوائد اور نتائج سے آگاہ کرنے کے
لیے کیا جا سکتا ہے۔مزید برآں، مؤثر ادراک کے انتظام کے لیے متعدد اسٹیک ہولڈرز بشمول سول سوسائٹی کی تنظیمیں، مذہبی
رہنما، اور کمیونٹی کے نمائندے شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ اسٹیک ہولڈرز عوامی تاثرات اور رویوں کی تشکیل میں اور
متضاد فریقین کے درمیان مفاہمت اور تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ ایک جامع اور
شفاف انداز میں بات چیت کرنا اور ان کے خدشات اور نقطہ نظر کو سننا ضروری ہے۔آخر میں، قیام امن اور ادراک کا انتظام
تنازعات کے حل اور استحکام کی کارروائیوں کے دو اہم اجزاء ہیں۔ قیام امن کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے
کہ انہیں کس طرح سمجھا جاتا ہے اور عوام تک پہنچایا جاتا ہے، اور مؤثر ادراک کے انتظام کے لیے ایک باریک بینی اور
اسٹریٹجک نقطہ نظر کی ضرورت ہوتی ہے جو تنازعات کی ساختی اور ثقافتی دونوں جہتوں کو حل کرے۔ مفاہمت اور تعاون کو

فروغ دے کر، اور تنازعات کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے سے، امن کی تعمیر اور ادراک کا انتظام مستحکم اور محفوظ ماحول
کی تخلیق میں کردار ادا کر سکتا ہے جو معاشروں کو تنازعات سے بازیافت کرنے اور پائیدار امن قائم کرنے کے قابل بناتا ہے۔

Saturday, 18 February 2023

اینٹی کرپشن ٹیم کا ریڈ : اسسٹنٹ ڈائریکٹر رنگے ہاتھوں گرفتار

 

عاصمہ اعجاز چیمہ،ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا کی نگرانی میں محکمہ اینٹی کرپشن سرگودھا نے ڈویژن بھر میں کرپٹ مافیا کے خلاف گھیرا تنک کیا ہوا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کرپٹ عناصر کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جا رہاہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد ابوبکر جاوید سکنہ ہڈالی ضلع خوشاب نے ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھاعاصمہ اعجاز چیمہ کو درخواست گزاری کہ پٹرول پمپ کی منظوری کے لیے محکمہ ماحولیات سے این او سی حاصل کر نا ہے جس کے لیے فیصل عباس، انسپکٹر نے سائل سے پہلے ہی سروے رپورٹ کے لیے20ہزار روپے رشوت وصول کر چکا ہے اور اب اظہار الحق اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات این او سی جاری کرنے کے لیے 50ہزار روپے رشوت طلب کر رہا ہے جبکہ سائل نے 25ہزار روپے دینے کا وعدہ کیا ہے۔جس پر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھانے محمداویس سرکل آفیسر اینٹی کرپشن خوشاب کو ریڈ کرنے کا حکم دیا۔جس پرمحمد اویس، سرکل آفیسرنے سید عمران حسین شاہ، جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں ریڈ کر کے اظہار الحق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات کے قبضے سے25ہزار روپے کے نشان زدہ نوٹ برآمد کر کے موقع پر گرفتار کر لیا۔اینٹی کرپشن کی ٹیم نے ملزم اظہار الحق، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور فیصل عباس انسپکٹر محکمہ ماحولیات کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔


Saturday, 12 November 2022

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پہلے خوشاب پولیس کی بڑی کاروائی

قبضہ مافیا کے گرد گھیرا تنگ ملزمان گرفتار بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد

اسد الرحمن ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خوشاب کے حکم پر ایس ایچ او صدر کی اپنی ٹیم کے ہمراہ قبضہ مافیا کے خلاف بڑی کاروائی ملزمان گرفتار مقدمات درج۔ ملزمان قبضہ مافیا کے ساتھ ساتھ علاقہ کے لیے خوف کا باعث بھی بنے ہوئے تھے۔ اسدالرحمن ڈی پی او خوشاب نے کہا کہ ضلع خوشاب میں قبضہ مافیا کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی۔ کای کو کسی کے حق پر قابض نہیں ہونے دیا جائے گا۔
*برآمدگی*
۱۔ کلاشنکوف: 03عدد
۲۔ رائفل 44بور: 03عدد
۳۔ رپیٹررائفل: 02عدد
۴۔ پسٹل9 ایم ایم: 02عدد
۵۔ پسٹل30بور: 04عدد
۶۔ بندوق12بور: 01عدد
۷۔ ایمونیشن: 400 کارتوس

*ملزمان*
۱۔ مالک داد ۲۔ عامر اقبال ۳۔ محمد ارشاد ۴۔ عمرحسنین ۵۔ عمران ۶۔ کامران سکنائے سرفراز کالونی ۷۔ محمد جہانگیر ۷۔ خالد عثمان ۹۔ محمد رمضان ۱۰۔ ابوبکر ۱۱۔ عمرفاروق ۱۲۔ محمد بلال ۱۳۔ محمد بلال خان سکنائے اعوان ٹاؤن نمبر1 ۱۴۔ گل فراز سکنہ پنڈی کوڑا

Thursday, 21 July 2022

ضلع خوشاب میں خاندانی سیاست

  پی پی 83کے ضمنی انتخاب میں بھائیوں کی ایک جوڑی ملک عمر اسلم اعوان اور ملک حسن اسلم اعوان کو بیک وقت ایم این اے اور ایم پی اے بننے کا اعزاز حاصل ہو گیا ہے قبل ازیں 1988میں ملک خدا بخش ٹوانہ ایم این اے اور انکے بھائی ملک غلام محمد ٹوانہ ایم پی اے بنے تھے 1990میں یہ ترتیب الٹ ہو گئی ملک غلام محمد ٹوانہ ایم این اے اور ملک خدا بخش ٹوانہ ایم پی اے بنے ان دونوں انتخابات میں ملک خدا بخش ٹوانہ ایم این اے اور ایم پی اے دونوں نشستوں پر منتخب ہوئے تاہم انہوں نے 1988میں صوبائی اور 90 میں قومی نشست چھوڑی جن پر ملک غلام محمد ٹوانہ ضمنی انتخاب میں کامیاب رہے انکے چچا زاد بھائی ملک انور خان ٹوانہ 1962میں خوشاب سے پہلے بلا مقابلہ ایم این اے منتخب ہوئے تھے جبکہ 2002 میں انکے بھائی ملک سیف اللہ ٹوانہ اور 2018میں ملک احسان اللہ ٹوانہ ایم این اے چنے گئے موجودہ ایم این اے اور ایم پی اے اسلم برادران کے ماموں ملک نعیم خان مرحوم چار مرتبہ مسلسل ایم این اے کا انتخاب جیتے بعد ازاں بیماری کے باعث سیاست سے ریٹائرڈ ہوئے تو انکی جگہ ملک عمر اسلم اعوان نے لی محترمہ سمیراملک تین مرتبہ مسلسل ایم این اے منتخب ہونے کے بعد نااہل قرار پائیں تو انکی جگہ انکے بیٹے ملک عذیر محمد خان ہوتی کامیاب ہوئے خوشاب کی سیاست میں ایک اور بڑا نام ملک کرم بخش اعوان فیملی کا ہے ملک کرم بخش اعوان مرحوم 1970میں پیپلزپارٹی کے مقابلہ میں کامیاب رہ ےجب اس جماعت کے کھمبے بھی جیت جاتے تھے 1988میں انکے بیٹے ملک محمد بشیر اعاون ایم پی اے منتخب ہوئے 2002میں ملک بشیر اعوان کے بھائی ملک جاوید اعوان ایم پی اے چنے گئے جبکہ 2008اور 2013میں بھائی ملک جاوید اعوان ایم پی اے اور بیٹے ملک شاکر بشیر اعوان ایم این اے بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور اس طرح چچا بھتیجا کے ایک ساتھ ایم این اے ،ایم پی اے کا ریکارڈ بھی ضلع خوشاب میں بنا ملک وارث کلو مرحوم چار بار مسلسل ایم پی اے رہے اور انکے انتقال کے بعد انکی جگہ انکے بیٹے بیرسٹر ملک معظم شیر کلو نے لی اسی طرح 1970میں کونسل لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ملک خالق داد بندیال کے بیٹے ملک فتح خالق بندیال اب ایم پی اے ہیں

Thursday, 2 June 2022

نئی حلقہ بندی پرانی سیاست گھرل مرل ہو گئی

 خوشاب(رپورٹ: ابراررانا)ضلع خوشاب کے دونوں قومی اسمبلی کے حلقوں کے نمبرز اور خدوخال تبدیل ہو گئے ہیں تاہم صوبائی نمبرز کو برقرار ہیں لیکن انکی بھی ہیت بدل گئی ہے این اے 93اب این اے 87کہلائے گا جس میں تحصیل نوشہرہ،تحصیل خوشاب کے قانون گو حلقہ کٹھہ سگھرال،کنڈ شمالی،خوشاب ون،خوشاب ٹو خوشاب شہر،جوہرآباد شہر،جوہرآباد قانونگوئی،ہڈالی شہر اور گروٹ قانون گوئی کے پٹوار سرکل کرپالکہ،جوئیہ،ہموکہ اور رنگپور کدھی شامل ہونگے



 این اے 94کی جگہ اب حلقہ کو این اے 88کا نمبر دیا گیا ہے اس میں تحصیل نورپورتھل،تحصیل قائدآباد،مٹھہ ٹوانہ شہر،مٹھہ ٹوانہ قانونگوئی،گروٹ قانونگوئی مائسوائے پٹوار سرکل کرپالکہ،جوئیہ،ہموکہ اور رنگپور شامل ہوگئی صوبائی حلقہ پی پی82تحصیل نوشہرہ،خوشاب




 شہر،قانون گو حلقے کٹھہ سگھرال،کنڈ شمالی،خوشاب ون،خوشاب ٹو حلقہ پی پی 83قائدآباد تحصیل مائسوائے قانون گوئی 22ایم بی،ہڈالی شہر،مٹھہ ٹوانہ شہر،جوہرآباد شہر،مٹھہ ٹوانہ قانونگوئی،جوہرآباد قانونگوئی مائسوائے پٹوارسرکل 39ایم بی،45اے ایم بی،48ایم بی،50ایم بی اور پی پی 84تحصیل نورپورتھل گروٹ قانونگوئی،جوہرآباد قانونگوئی کے پٹوار سرکل 39ایم بی،45اے ایم بی،48ایم بی،50ایم بی اور تحصیل قائدآباد کے قانون گو حلقہ 22ایم بی پر مشتمل ہونگے

Thursday, 12 May 2022

الیکٹریشن نے محبوبہ سے ملنے کیلئے گاؤں کی بجلی کاٹ دی

خوشاب (ویب ڈیسک) دنیا میں آئے روز ایسے عجیب و غریب واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں کہ جن کے بارے جان کر عقل انسانی دنگ رہ جائے، ایسا ہی ایک واقعہ بھارت میں پیش آیا جہاں پر ایک الیکٹریشن نے اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے پورے گاؤں کی بجلی کاٹ دی:

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست بہار کے پورنیہ ضلع کے گاؤں گنیش پور میں یہ واقعہ پیش آیا جہاں پر ایک شخص کی جانب سے متعدد مرتبہ اپنی محبوبہ سے ملنے کے لئے رات کے وقت پورے گاؤں کی بجلی کاٹی گئی مگر یہ راز زیادہ دیر نہ چھپ سکا اور مقامی لوگوں کے ہاتھوں ایک دن اس کا پردہ فاش ہوگیا:۔۔۔۔۔۔

رپورٹس کے مطابق پورا گاؤں روزانہ بجلی جانے سے پریشان تھا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے پیچھے لگا ہوا تھا کہ اس کی اصل وجہ ہے کیا، پورا گاؤں ہر شام ایک خاص وقت میں تاریکی میں ڈوب جاتا تھا، جب کہ پڑوس کے گاؤں کو بجلی کا کوئی مسئلہ نہیں تھا:۔۔۔۔۔

بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے گنیش پور گاؤں والوں کو گہری کھدائی کرنا پڑی اور جب انہیں اصل وجہ کا پتہ چلا تو وہ صدمے میں رہ گئے:۔۔۔۔۔۔

عینی شاہدین کے مطابق اس شخص کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد گاؤں والوں نے جوڑے کی شادی کروا دی:۔۔۔۔۔۔ 

سنٹر سٹی بیوٹیفکیشن پلان" پر جاری کام کی تفصیلی جائزہ

کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ان کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ منصوبے ...