Monday, 19 February 2018

حضرت لعل شہباز قلندر کا وصال

حضرت لعل شہباز قلندر کا وصال !
19 فروری 1275ء مطابق 21 شعبان 673ھ سندھ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت لعل شہباز قلندر کی تاریخ وفات ہے
۔
حضرت لعل شہباز قلندر کا اصل نام سید محمد عثمان مروندی تھا اور آپ کا سلسلہ نسب گیارہ واسطوں سے حضرت امام جعفر صادقؑ سے ملتا ہے۔آپ 1177ء مطابق 573ھ میں مروند کے مقام پر پیدا ہوئے۔ آپ نے ظاہری اور باطنی علوم کی تحصیل اپنے والد بزرگوار حضرت ابراہیم کبیرالدین سے کی۔ قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد آپ نے ہندوستان بھر کی سیاحت کی اور مختلف اولیائے کرام کی صحبت سے مستفید ہوئے جن میں شیخ فرید الدین گنج شکرؒ، حضرت بہائو الدین زکریا ملتانیؒ، شیخ بوعلی قلندرؒ اور مخدوم جہانیاں جلال الدین بخاریؒ کے نام سرفہرست
ہیں۔ پھر آپ نے مستقل سکونت کے لیے سہون شریف کے مقام کو منتخب کیا اور وہاں رشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔

آپ ہمیشہ سرخ رنگ کا لباس زیب تن کرتے اس لیے آپ کو لعل کا خطاب عطا ہوا۔ شہباز کا خطاب آپ کو اس لیے دیا گیا کہ ایک مرتبہ آپ نے اپنے ایک مرید کو بے وجہ پھانسی سے بچانے کے لیے ایک جست لگائی اور اسے پھانسی سے بچالیا جبکہ قلندر کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ کا تعلق سلسلہ قلندریہ سے ہے۔ آپ نے 19 فروری 1275ء مطابق 21 شعبان 673 ھ کو سہون میں وفات پائی،جہاں آپ
کا مزار مبارک آج بھی مرجع خلائق ہ

Sunday, 18 February 2018

1294 – Kublai Khan, Mongolian emperor (b. 1215)

"HISTORY"
1294 – Kublai Khan, Mongolian emperor (b. 1215)
Kublai Khan (Middle Mongolian: Qubilai Qaγan, "King Qubilai"; September 23, 1215 – February 18, 1294),and also known by the temple name Shizu, was the fifth Khagan (Great Khan) of the Ikh Mongol Uls (Mongol Empire), reigning from 1260 to 1294, and the founder of the Yuan Dynasty, a division of the Mongol Empire.
Kublai was the second son of Tolui and Sorghaghtani Beki, and a grandson of Genghis Khan. He succeeded his older brother Möngke as Khagan in 1260, but had to defeat his younger brother Ariq Böke in a succession war lasting until 1264. This episode marked the beginning of disunity in the empire. Kublai's real power was limited to China and Mongolia, though as Khagan he still had influence in the Ilkhanate and, to a far lesser degree, in the Golden Horde. If one counts the Mongol Empire at that time as a whole, his realm reached from the Pacific to the Black Sea, from Siberia to modern day Afghanistan – one fifth of the world's inhabited land area.
In 1271, Kublai established the Yuan Dynasty, which ruled over present-day Mongolia, China, Korea, and some adjacent areas, and assumed the role of Emperor of China. By 1279, the Yuan forces had overcome the last resistance of the Southern Song Dynasty, and Kublai became the first non-Chinese Emperor to conquer all of China. He was also the only Mongol khan after 1260 to win new conquests.
The summer garden of Kublai Khan at Xanadu is the subject of Samuel Taylor Coleridge's 1797 poem Kubla Khan. This poem and Marco Polo's earlier book brought Kublai and his achievements to the attention of a wider audience, and today Kublai is a well-known historical figure.

Tuesday, 13 February 2018

یہ محبت ہے(تحریر:ڈاکٹر محمد کلیم )

بادل اور برسات کا جو روپ ہے
یہ محبت ہے
ماں کے دل میں جو جذبہ ہے
یہ محبت ہے
باپ کے لب پر جو دعا ہے
یہ محبت ہے
بچہ جب آس سے ماں کو دیکھتا ہے
یہ محبت ہے
محبوب کی دل میں جو آرزو ہے
یہ محبت ہے
انسان کی تکمیل ہے
یہ محبت ہے
پہچان انسانیت جو ہے
یہ محبت ہے
درد، تڑپ آرزو
محبت ہے
ہاں یہ مانگتی ہے
قربانی، اقرار
اپنا انکار
ہاں ذات کا انکار
محبت ہے
خدا کی پہچان
محبت ہے
ہمارا ایمان محبت ہے

ﻓﺮﺍﻕ ﯾﺎﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ، ﻣﻼﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ(انتخاب:مریم مختار)

ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺍ ﮐﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
ﻭﮦ ﺍﮎ ﺩﻋﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﻮ ﻧﺎﻣﺮﺍﺩ ﻟﻮﭦ ﺁﺋﯽ
ﺯﺑﺎﮞ ﺳﮯ ﺭﻭﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
ﺑﮩﺖ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻧﯿﻢ ﻭﺍ ﺩﺭﯾﭽﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﭨﮭﮩﺮ ﮔﯿﺎ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
ﺟﻮ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﮟ ﮬﻮ ﺑﮩﺎﺭﯾﮟ ﺍﺟﮍ ﺑﮭﯽ ﺳﮑﺘﯽ ﮬﯿﮟ
ﺗﻮ ﺁ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺯﻭﺍﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
ﻣﺤﺒﺘﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺩﮬﻮﭖ ﭼﮭﺎﻭﮞ ﺟﯿﺴﯽ ﮬﯿﮟ
ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﮬﺠﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﯾﮧ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ
"ﮐﻮﺉ ﻣﻼ ﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺳﻮﻧﭙﺘﮯ "ﻣﺤﺴﻦ
ﮬﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ

انٹی کرپشن سرگودہا کی کاروائی :میونسپل کمیٹی شاہپور کے افسر اور ٹھیکیدار پر کرپشن کے الزام میں مقدمہ در ج

محکمہ اینٹی کرپشن سرگودھا کی کاروائی۔محمد ناصر، ٹی او (آئی اینڈ ایس)، حسن اختر، سب انجینئر اور عابد حسین شاہ، ٹھیکیدار میونسپل کمیٹی شاہ پور ضلع سرگودھا کے خلاف کرپشن اور ناقص میٹریل استعمال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج:تفصیلات کے مطابق ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا کومہر اللہ یار ولد مہر حاکم خان سکنہ بکھر بار تحصیل شاہپور ضلع سرگودھانے درخواست گزاری کہ تحصیل شاہپور میں ایک سڑک ٹی ایم اے شاہ پور نے سال 2016میں بنائی تھی جس میں انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے وہ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکارہو گئی جس سے حکومت پنجاب کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ جس پر ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا نے غلام محمد غوث، اسسٹنٹ ڈائریکٹر(ٹیکنیکل)،اینٹی کرپشن سرگودھاکو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ جس پرانکوائری آفیسر نے تفصیل سے انکوائری کی اور موقعہ کا ملاحظہ کیا اور نکوائری رپورٹ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرگودھا کو پیش کی جس پر ریجنل ڈائریکٹر، اینٹی کرپشن سرگودھا نے محمد ناصر، ٹی او (آئی اینڈ ایس)، حسن اختر، سب انجینئر اور عابد حسن شاہ، ٹھیکیدار، میونسپل کمیٹی شاہ پور کے خلاف کرپشن اور ناقص میٹریل کا استعمال کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کے احکامات دیئے۔ مقدمہ کی تفتیش سرکل آفیسر ہیڈ کوارٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر(ٹیکنیکل)، اینٹی کرپشن سرگودھا سپرد کی ۔ اورتفتیشی ٹیم کو ہدایت کی کہ وہ مقدمہ کی تفیش میرٹ پریکسوکرے





Sunday, 11 February 2018

عاصمہ جہانگیر(راقم:ڈاکٹر محمد کلیم)

آج جب عاصمہ جہانگیر کی وفات کی خبر آئی تو دل افسردہ ہوا کہ ایک انسان اور دنیا سے رخصت ہوا۔ ہر انسان نے دنیا سے جانا ہی ہے۔ موت نہ ذات دیکھتی ہے نہ جنس نہ مذہب نہ عمر یہ آجاتی ہے اور اپنے ساتھ یادیں چھوڑ جاتی ہے۔ شاید دنیا میں موت کے علاوہ کوئی ایسی شے ہوگی جس پر دو لوگ متفق ہوں لیکن یہ ایسا سچ ہے اسے کوئی نہیں جھٹلا سکتا، موت کے بعد اور موت سے پہلے کے تمام امور قابل بحث اور نفاق کا باعث ہیں سوائے موت کے۔ سوشل میڈیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر شخص کھل کر اپنی سوچ بیان کرتا ہے یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہی سوچ اس کی شخصیت کی عکاس ہے اور یہی چلن اس کا اپنی زندگی میں بھی ہے۔ اب کچھ لوگ عاصمہ جہانگیر کو بدچلن، سی آئی اے کی ایجنٹ پاکستان اور اسلام کی دشمن سمجھتے تھے تو وہ اللہ کا شکر ادا کررہے ہیں کہ خس کم جہاں پاک، دوسرے لوگ ان کو انسانی حقوق کی علمبردار، عظیم وکیل آئینی ماہر اور عورتوں کے حق میں آواز کے طور پر جانتے ہیں اور ان کی وفات میں غمزدہ دکھائی دیتے ہیں۔ بات یہ سمجھیں کہ انسانیت کیا اہم نہیں ہے؟ ہم نے جب سے آنکھ کھولی ہے ہمیں اسلام اور پاکستان خطرہ میں ہی ملے ہیں۔ ایسی نجانے کیا بات ہے کہ ہم کو ہر شے سے خطرے کی بو آتی ہے یہ بات شاید ہماری کمزور سوچ کی عکاس ہے کہ ہم اپنے مسائل کو دوسرے پر تھوپ دیتے ہیں۔ بات اتنی سی ہے کہ الزام لگانا بہت آسان ہے اور اپنے آپ کو درست کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ نہ اسلام خطرے میں ہے نہ ہمارے پیارے وطن کو کوئی خطرہ ہے۔ اگر خطرہ ہے تو ہماری تنگ نظری سے کوتاہ نظری سے جو ہمیں سچ دیکھنے نہیں دیتے اور کئی جھوٹ تراش کر ہم دل کو مطمن کردیتے ہیں۔ کبوتر کی طرح ہم کب تک آنکھیں بند رکھے گے اور اپنے آپ کو جھوٹ کے پردے میں چھپائے رکھے گے۔ سچ تو یہ ہے کہ آزاد خیال اور آزاد سوچ ناصرف اسلام کے لیے باعث تقویت ثابت ہوگا بلکہ ملک کے لیے بھی مضبوط بیناد فراہم کرے گا۔
عاصمہ جہانگیر تجھے سلام 


ضلع خوشاب:کوہ نمک کے پہاڑوں میں گھرا قدیم تہذیب و تمدن کاحامل وادی ِسُون سکیسر

پاکستان کے دارُلخلا فہ اسلام آباد سے290کلومیٹر اور سرگودہا سے 110کلومیٹر کے فاصلے پر سلسلہ ِکوہ نمک کے پہاڑوں میں گھرا قدیم تہذیب و تمدن کاحامل، مذہبی روایا ت کا امین ،قدرتی طورپر سرسبز اورخوبصورت علاقہ "وادی ِسُون سکیسر" ضلع خوشاب میں واقع ہے ۔ خوشاب سے شمال مغرب کی جانب پیل پدھراڑ سے لے کر سکیسر تک کم وبیش56کلومیڑلمبائی اور 14کلومیٹر چوڑائی پر پھیلے رقبے میں چھوٹی بڑی آبادیوں پیل، پدھراڑ، جابہ،د ھددہڑ، مکڑمی، مردوال، اوچھالی، اوچھالہ، سرہال، شکرکوٹ، سبھروا ل ، ا نگہ ، اُگالی شریف ، سوڈھی ، کلیال ، بُھکی(مصطفٰےآباد)، کھوڑہ ،جھالر، کفری (نیا نام صادق آباد) کے علاوہ چھوٹی چھوٹی ڈھوک اورخوبصورت چاہڑیوں(چاہڑی پہاڑوں میں گھری ہموار زمین) پرمشتمل
وادی کا صدرمقام نوشہرہ ہے۔
وادی سون کا بُلندترین،سرسبز،خوبصورت اورپورے وسطی پنجاب میں سردیوں کے موسم میں (SnowFalling) برف باری کا واحدمقام سکیسر سطح سمندر سے 5010 فٹ(1530میٹر) بلند ہے ۔ یہ سلسلہ کوہِ نمک میں قدرتی طور پر ایسی بلنداور واضح جگہ پر واقع ہے جہاں سے چکوال ، میانوالی ، خوشاب،سرگودہا اور ضلع جہلم سمیت پنجاب کا بیشتر حصّہ واچ کیاجا سکتا ہے۔ اس قدرتی خوبی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دفاعی نقطہء نظرکی اہمیت کے حامل دلکش مقام سکیسرکو 1950کی دہائی میں پاکستان ائیر فورس بیس میں تبدیل کردیا گیا۔اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن براڈکاسٹنگ کا سنٹربھی اس علاقے کے عوام تک نشریات پہنچانے کے لئے سکیسر میں قائم کیا گیاہے۔
سکیسر میں شدید سردی اور اکثراوقات برف باری بھی ہوتی لیکن باقی وادی کا موسم گرمیوں میں خوشگوارٹھنڈا، اور سردیوں میںنشیبی علاقوں کی نسبت زیادہ سردہوتا ہے۔اس علاقے کیآب وہوا پولٹری صنعت کے لئے بھی انتہائی موزوں ہے ۔اس کے علاوہ یہاں کا قدرتی شہد پورے پاکستان میں مشہورہے۔یہاں کے لوگ دراز قد، سفیدرنگ،خوب صورت شخصیت کے مالک، ملنسار، حوصلہ مند، جفاکش اور محنت میں عظمت پر یقین رکھتے ہیں۔وادی کے لوگوں کا پسندیدہ لباس بلندطرہٰ (شُملہ) والی سفید پگڑی ،سفیدقمیض اور سفید تہہ بندہے۔زبان پنجابی مگربولنے کے دوران شائستہ علاقائی لب ولہجہ، مٹھاس اور ایک خاص وضع وانداز کا غلبہ نظرآتا ہے۔ مثال ! مانہہ ملک تھیندا، اسڈیاں گڈیاں اسڈے روٹ۔
وادی سُون سکیسرکے لوگوںکی اولین ترجیح سپہ گری اور اس کے بعد یہاں کی زیادہ ترآبادی کا انحصارگلہ بانی اور زراعت پر ہے۔ اس خطے کے لوگ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بڑی بڑی جاگیروں کے مالک نہیں بلکہ یہاں کی اکثریت چندایکڑ سے زیادہ زمین نہیں رکھتی۔ لیکن قدرت نے اس علاقے کو منفردآب و ہوا اور زرخیزمٹی عطا کی ہے۔ کہ جب ملک کے باقی حصوں میں سبزیوں کی قلت ہواُس وقت وادیِ سون سکیسر کے پھل اور خاص کر سبزیاںملک کے اکثریتی حصے کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ یہاں کی سبزیاں لذت اور غذائیت کے اعتبار سے بے مثال ہیں۔

وادی سون میںآج کل ٹیوب ویلآبپاشی کا بہترین ذریعہ ہیں ۔ لیکن اوور بلنگ اورشارٹ فال کی وجہ سے پورے ملک کی طرح یہاں کیآبادی بھی اس صورت حال سے انتہائی پریشان حال ہے۔ چندسال پہلے تک صرف چند محدود اہلِ استعداد لوگوں نے اپنی زمین میںآبپاشی کے لئے کنوئیںبنا رکھے تھے۔ لیکنآبادی کے بیشتر حصّہ کا انحصارکھیتی باڑی، بھیڑ بکریاں اور اونٹ پالنے پر تھا۔ چونکہ زیادہ تر لوگوں کا گزربسر بارانِ رحمت سے سیراب ہونے کی صورت میں حاصل ہونے والی فصل پر تھا۔ اس لئے یہاں کے لوگ اللہ پر توکل اور اُس کی عطا پر شکرکرنے کے عادی اور انتہائی مشکل حالات میں بھی خوشی، اعتماد اور چہرے پر سکون رکھنے کے ہنُر سے واقف تھے۔ اسی طرح چرواہے علی الصبح اپنے اپنے ریورڈ لے کر وادی کے مختلف حصوں میں پھیل جاتے اور سارا دن گزارنے کے بعد مغرب سے کچھ وقت پہلے اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتے تھے۔ یہ لوگ نقل وحمل اور مال برداری کے لئے اونٹ استعمال کرتے۔
اس وادی کے لوگ شادی بیاہ عموماََ فصلوں کی کٹائی اور بیجائی کے دوران فارغ وقت میں کرتے ہیں۔ شادی سے کئی روز پہلے ہی دارا۔ ( قبیلہ کی ا جتماعی بیٹھک) پر ڈھول کی تاپ پر ہیمڑی گانے( دوہڑے ،ماہیے علاقائی گیت قوالی طرزپر جس میں دوگروپ مل کرگاتے ہیں) کی محفلیں سجناشروع ہوجاتیں۔شادی کے دن بارات کے لئے اونٹوں پرکچاوے رکھے جاتے جنہیںخوب اچھی طرح سجایا جاتا۔ جب یہ قافلہ ڈھول کی تاپ پرغیرہموار راستوں سے ہوکردُلہا کے گائوں سے دُلہن کے گائوں کی جانب رواں دواں ہوتا تو یہ منظر دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔

عیدکے موقع پر دوردراز کے علاقوں سے ملازمت پیشہ لوگ گھروں کو لوٹتے تو نوجوانوںکی کبڈی اور والی بال کی ٹیمیں ترتیب دے کر مختلف گائوں کی ٹیموں کے درمیان مقابلے کا انتظار بڑی بے چینی سے کیا جاتا تھا۔
نسل درنسل دوستیاں، دُشمنیاں نبھا نے کی روایت اور تھانہ ، کچہری اس خطے کے لوگوں کے کلچرکاجزوِلازم کی حیثیت رکھتاہے ۔ محمدخان ڈھرنالی ،ممتاز کُندی، سِدوولاسر (سردارعلی) اور ملکی سطح پر دُشمنی اور پولیس مقابلوں کے حوالے سے پہچان حاصل کرنے والے کردار جس کے نام پر ماضی میں فلمیں بھی بنائی گئیں "چراغ بالی" کا تعلق بھی اسی خطے کے نواحی گائوں ہڈالی سے تھا۔
ایک مدت سے اہل وادی سون سکیسراپنے عہد (مقامی زبان میں دعائے خیر) پرآج بھی قائم ہیں کہ فوتگی امیر یا غریب کی ہو۔ مسلسل تین دن تک مہمانوں کے لئے دال روٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بنے گی۔ یہ امیر ،غریب کے درمیان مساوات کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کا مقصد غریب گھرانے کے لوگوں کی اخلاقی مدد اوراُنہیں احساس کمتری سے بچانا ہے۔یہاں کی زیادہ ترآبادی ۔"قطب شاہ اعوان" قبیلے پر مشتمل ہے۔ اعوان برادری کے بارے مشہور ہے کہ یہ لوگ امریکہ، جاپان حتی کہ چاند پر بھی سکونت ممکن ہوئی تو ٹرانسپورٹ، فوج، کھیتی باڑی ہی کا پیشہ اختیار کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح اگر گھروں کی پیشانی پر لکھنے کا رواج ہوتا تو ان کے کچے پکے ہر گھر کے دروازے پر "اعوان تیرا اللہ نگہبان" لکھا ہوتا۔

خوشاب سے نوشہرہ کی طرف جاتی سڑک پر جیسے جیسے وادی سون سکیسر کے قریب پہنچتے ہیںتو اس وادی کی کشش انسان کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہے۔ پہاڑکے بلندمقام پر بابا گولڑہ کی مسجدکے سفید مینار کئی کلومیڑ دورسے ہی نظرآنا شروع ہوجاتے ہیں اور بل کھاتی سڑک سے بلندی کی جانب سفر کے دوران نیچے میدانی علاقے کی مختلفآبادیاں ہڈالی،کنڈ، خالقآباد، بھرکن، پنڈی ، وہیر، شاہ محمد صدیق کامزار،جوہرآباد،خوشاب ، سندرال اور دریائے جہلم تک کا نظارہ کیا جاسکتاہے۔
بلندی کی جانب کا تقریباََآدھا سفر طے کرنے کے بعد مختصر رقبے پرایک خوب صورت باغ نڑواڑی ہے۔ جہاں پر تمام لوکل گاڑیاں تھوڑی دیر کے لئے انجن کوآرام پہنچانے اور ریڈی ایٹرکا پانی تبدیل کرنے کے لئے لازمی رکتی ہیں ۔ اس دوران نوجوان جلدی سے باغ کی سیر کرتے ہیںتو دیگر مسافر گاڑی میں بیٹھے قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندور ہوتے ہیں۔
نڑواڑی سے کچھ کلو میڑفاصلہ طے کرنے کے بعددائیں جانب بغیر اسفالٹ کے پتھریلا رستہ ۔" پیرکچھیاں اور قلعہ تلاجھا"کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یہ دونوں مقام مین شاہراہ سے تقریباََ 12 سے 15کلومیٹر پر ہیں۔ اگر ان مقامات پر جانا مقصود ہو تو کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے جانی چاہیے ۔ یہاں صرف ہائیکنگ کے ذریعہ ہی پہنچنا ممکن ہے۔ قلعہ تلاجھا نشیبی گائوں نلی اور کھوڑہ کی سرحد پرپہاڑ کا الگ سے ایسا بلندحصّہ ہے۔ جہاں سے پہاڑ چاروں طرف سے کٹ کر نیچے چلاجاتا ہے۔ اس لئے قلعہ کے اندرواحدقدرتی داخلی راستے کے علاوہ کسی طور پر بھی داخل ہونا ممکن نہیں۔
قلعہ تلاجھا کے بارے میں مشہور ہے کہ پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ نے دُشمن سے محفوظ رہنے کے لئے یہاں مختصرسا قلعہ بنایا تھا۔ لیکن اُس کے دُشمن نے تُلاجھاسے قدرے بلندعقبی پہاڑسے تیر اور پتھر برساکراُس کا کام تمام کردیا۔البتہ یہاں رہائش کے لئے بنائی جانے والی بڑی اور چوڑی دیواریں دیکھنے والوں کوآج بھی حیران کردیتی ہیں کہآخر اتنے بڑے اور وزنی پتھرایک دوسرے پرجوڑنے کس طرح ممکن ہوئے۔اورصدیاں گزرنے کے باوجود جس کی باقیادت ابھی تک موجود ہیں۔
قلعہ تلاجھا سے دامنِ پہاڑ کے گائوں مہرہ ،نلی، مہلوال، ناڑی، کٹھہ ،منگوال ،دئیوال سمیت دیگر میدانی بستیوں کا نظارہ کیا جا سکتاہے۔ قلعہ کے قریب ہی بابا ناڑے والا کے نام سے منسوب مقام پردوبلند پہاڑی حصوں کے درمیان صدیوں سے جاری صحت بخش، ذائقہ دار اور صاف شفاف چشمہ کے پانی سے دامن پہاڑ میں وسیع رقبے پرمشتملآبادی اللہ رب العزت کی رحمت سے مستفید ہورہی ہے ۔ اس چشمہ کے اردگر بے شمارسر سبزگھنے درخت اور پرندوں کے گیت یادوںمیں ہمیشہ کے لئے ثبت ہوجانے والا خوبصورت سما ں پیدا کرتے ہیں ۔
وادی سون کی پہلی خوبصورت ترین لوکیشن کٹھوائی کے بعد کھوڑہ کیآبادی جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت ، تازہ ٹھنڈی ہوا ، وادی میں داخل ہونے والے کا استقبال کرتے ہیں۔کھوڑہ کے بعد سڑک کے دونوں جانب گھنے درخت اور سرسبز پہاڑ بہت ہی دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔اس کے بعدبُھکی نیا نام( مصطفیٰ ا ٓ با د) کا علاقہآتا ہے جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت اور سرسبز و بلند پہاڑ وادی کے حُسن میں اہم اضافہ کرتے ہیں ۔

وادی سون سکیسر کے لوگوں کی سادگی کی مثال !کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں بُھکی کے ایک بزرگ کو مقدمہ کی بنا پر بڑے شہر کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ اُس وقت کے لوگ جج کو حکومتی نمائندہ ہونے کے بنا پر سرکار کہہ کر پکارتے تھے۔ جج نے بزرگ سے پوچھا کہ ۔۔ تمھارا گھر کہاں ہے۔۔ بزرگ نے احترام سے جواب دیا ۔۔سرکار بُھکی ۔
جج نے حیرانی سے پوچھا تم نے کیا کہا ۔۔۔۔ سرکار بُھکی ؟ بزرگ نے عدالت میں موجود لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ سب لوگ بھی جانتے ہیں ۔۔۔جی۔۔سرکار بُھکی ۔ جج کو اس شخص کی سادگی کا احساس ہوا تو ہنسے بغیر نہ رہ سکا اورعدالت میں موجود باقی لوگ بھی اس اتفاقی اور دلچسپ مقالمہ بازی پر ہنس دیئے۔
وادی سون سکیسر میں کھبیکی کے مقام پر 1کلومیڑ لمبی اور2کلومیڑ چوڑی قدرتی جھیل ہے۔جس کا پانی نمکین اور ناقابل استعمال ہے۔ لیکن اب کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کا پانی معجزاتی طور پر قدرے میٹھا ہوچُکا ہے ۔ یہاں چائنہ کی BREED FISH کی افزائش کی جارہی ہے۔ جھیل کی سیرسے لطف اندوز ہونے کے لئے کشتیا ں موجود ہیں۔
سکیسر بیس سے پہلے پہاڑ کے دامن میںاوچھالی جھیلآتی ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ پہاڑ پرآبادی اور جھیل کا نظارہ بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح کفری( نیا نام صادقآباد)کے مقام پر بھی ایک بہت ہی خوبصوت جھیل ہے۔جس کے ساتھ پھول دار پودے اور سرسبز درختوں پر چہچہاتے پرندے اس خوبصورت مقام کی سیر کرنے والوں کی یادوں کو مزید حسین اور یادگار بنادیتے ہیں۔اسی طرح موسم سرما میں سائبیریا اور دیگر ممالک سے ہجرت کرکےآنے والے بے شمار پرندے اس علاقے کی جھیلوں کے حسن ، خوبصورتی اور شان میںقابل ذکر اضافہ کردیتے ہیں۔
یہاں کی بزرگ ہستیوںکی یادگاروں میں چلہ گاہ بہائوالدین زکریا ملتانی(حضرت بہائوالحق رحمت اللہ علیہ) پیل پیراں، مزار باباشاہ فتح اللہ ہمدانی جابہ، بابا شیخ اکبردین دربارِ عالیّہ چشتیہ اکبریہ اُگالی شریف،پیر بابا محمد خوشحال کبھیکی اور بابا بیری والا کا مزار نوشہرہ واقع ہیں۔
وادی سون میں سوڈھی کے مقام پر قدیم ، تاریخی باغ ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال پہاڑوں میں گھرے خوب صورت باغ کو مقامیآبادی کی نسبت سے سوڈھی باغ کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ اس باغ میں موجود قدیم ، پھل دار درخت ، انواع واقسام کے پھول اور باغ کے درمیان سے چشمہ کا بہتاپانی یہاں کے ماحول کو سحرانگیز بنا دیتا ہے۔ سوڈھی میں محکمہء جنگلات کا ریسٹ ہائوس ہے ۔ جہاں محکمہ سے اجازت نامہ کے بعد قیام کیا جاسکتا ہے۔
ماضی کی بڑی قدآور شخصیات صدرایوب خان ،صدر سردارفاروق لغاری سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس علاقے میں شکار،سوڈھی باغ کی سیراوریہاں کے صحت افزاء ماحول میںمتعدد بار قیام کیا۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میںلوگ اپنی فیملیوںکے ہمراہ ملک کے دور درازعلاقوں سے اس پُرسکون ماحول کی طرف کھچے چلےآتے ہیں۔اس باغ کے قریب ہی ایک قدیم غارہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکزبنتی ہے۔اس کے علاوہ پُھلواڑی باغ اور کرھڈی باغ بھی بہت خوبصورت اور قابل دید مقامات ہیں۔ وادی سون کے علاقہ عنب شریف میں ہندئووں ، سکھوں کی قدیم مذہبی یادگاریں ابھی تک موجود ہیں۔
احمد ندیم قاسمی ، عبدالقادر حسن اور حضرت مولانا غلام مُرشد خطیب بادشاہی مسجد لاہور،سمیت وادی سون سکیسرسے تعلق رکھنے وا لی بے شمار نامورہستیاں ہیں جنہوں نے ملکی دفاع، سیاست،صحافت ،میڈیا ،شعروادب،صحت، تعلیم اورکھیل کے میدان میںملکی اور بین الاقوامی سطح پراپناآپ منوا کر پاکستان کے استحکام اور تعمیروترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

وادی سون سکیسر کے مقامی لوگوں ہی سے ہردورِ حکومت میںقومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے اس علاقے کے لوگوں کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوتے ہیں۔ ماضی میںسابق وفاقی وزیر ملک کرم بخش اعوان ، ملک نعیم اعوان کئی سال وزارت کے عہدہ پر براجمان رہے۔ اس کے علاوہ ملک مختار صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔ پرویز مشرف کے دور سے سمیرا ملک قومی اسمبلی ،ملک شاکربشیراعوان اورملک جاوید اعوان صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوتےآرہے ہیں۔اس کے علاوہ بے شمارایسی قدآور سیاسی شخصیات ہیں جو علاقائی ، صوبائی اور ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ لیکن ہر حکومت اور اس میں شامل مقامی نمائندوںنے اس علاقے کوغالباََ یہ سوچ کر نظرانداز کیاکہ یہ علاقہ تو پہلے ہی قدرتی طورپرخوبصورت اور صحت افزاء مقام ہے لہذا ایک مسلمان ہونے کے ناطے قدرت کے معاملات میں مداخلت کرنامناسب نہیں ۔
وادی ِ سون کے علاقے کو اہمیت نہ دینے، دانستہ غفلت اور لاپرواہی برتنے سے یہاں کے لوگ روزگار ،تعلیم ، صحت ، پختہ سڑک ، پانی اور دوسرے بنیادی انسانی حقوق سے محروم اورانتہائی پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اگر کہیں صحت کے مراکز موجود ہیں توکو الیفائیڈ ڈاکٹر موجود نہیں اور اگرڈاکٹر ہے تو میڈیسن موجود نہیں۔ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ اس غیرمنصفانہ سلوک روا رکھنے کے سبب ہر محب وطن کیآنکھیں اشکبار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔
وادی سُون سکیسر میںبے شمار ایسے مقامات اورپہاڑی درّے ہیںجہاںانتہائی کم لاگت پر ہوا سے چلنے والے بجلی گھر اورچھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کرمقامی لوگوں کی ضروریات پوار کرنے کے لئے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلے میں نمک ، کوئلہ ، چینی کے برتن بنانے والی ریت، قیمتی پتھرکے علاوہ قدرت کے بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ جنہیں مناسب منصوبہ بندی، تھوڑی سی محنت اور توجہ سے اس علاقے کے عوام کی فلاح اور پورے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے

سیر و سیاحت اس دور کی سب سے منافع بخش صنعت کا درجہ رکھتی ہے ۔ اسی لئے دیگر ممالک میں سیر وسیاحت کے مقامات کی ڈیویلپمنٹ سائنسی بنیادوں پر کی جارہی ہے ۔
قدرت کی اس خوبصورت عطاء وادی ِ سون سکیسر کی مناسب دیکھ بھال ، یہاںکے قدرتی پارکوں کی تزئین وآرائش اور ان میں بچوں کے کھیلنے کے بنیادی آلات کابندوبست کیا جائے۔کچھ مزیدپوائنٹس،ریسٹورینٹ، ریسٹ ہائوس اور ترقیاتی پروگرام ترتیب دیئے جائیں تو انتہائی کم لاگت سے نہ صرف قرب وجواہر کے مختلف علاقوں کے لوگوں کی سیروتفریح کا ذریعہ ء بن سکتا ہے۔ بلکہ دہشت گردی، خودغرضی اورافراتفری کے اس دورمیں مقامی لوگوں کے روزگار میں خاطرخواہ اضافہ سے یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ذہنوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف منتقل کرنے میں مددگارماحول پیدا کیا جا سکتا ہےتحریر : محمداکرم اعوان(ابھائ) سعودی عرب

سنٹر سٹی بیوٹیفکیشن پلان" پر جاری کام کی تفصیلی جائزہ

کمشنر سرگودہا ڈویژن جہانزیب اعوان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ان کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب کے فلیگ شپ منصوبے ...